جمعرات 4 جون 2026 - 08:51
غدیر کا احیاء دراصل دین اور ایمان کی نشانی

حوزہ/وقت آ گیا ہے دلوں کی گہرائی سے اور روح کی پکار سے اپنی پوری طاقت سے غدیر کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ غدیر کے لیے دن گننا شروع کریں، غدیر کے پرچم لہرا دیں، غدیر کا جشن منائیں، گلی کوچوں کو غدیر کے نعروں سے گونجائیں! “علیٌ ولیُ اللہ” کی صدا سے دنیا کو ہلا دیں۔

تحریر: حافظ منظور احمد شیخ

حوزہ نیوز ایجنسی| ایک ہی کام جو ہم ہر سال تکرار کرتے ہیں ، آئیں اس سال کسی اور انداز سے غدیر مناتے ہیں! ہر سال ہم کیا کرتے ہیں دو، تین ماہ پہلے سے ہی ہمارے دل، ہمارے ذہن، حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے لیے دھڑکنا شروع کر دیتے ہیں۔ عاشورا اور اربعین کے دن گنتے ہیں۔ یہ محبت، یہ عشق، بے شک ہمارے دلوں کا سرمایہ ہے، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ محرم سے پہلے ایک ایسی نعمت آتی ہے، ایک ایسی مناسبت ہے جو ہماری تمام تر خواہشوں سے افضل، ہماری آنکھوں کے آنسوؤں سے زیادہ قیمتی ہے۔ ہمارے مذہب کی، ہمارے ایمان کی بنیاد ہی اسی دن کی عظمت پر ٹکی ہے۔

غدیر کو کیا دیا ہم نے؟

آج شرم سے سر جھکا کر پوچھنا پڑتا ہے: غدیر کے لیے ہم نے کیا کیا؟ ہم نے تو بس اسے نظر انداز کر دیا، یا اپنی سمجھ کے مطابق اسے توڑ مروڑ کر پیش کر دیا۔ لیکن جو اصل حقیقت ہے غدیر کی وہ ابھی بھی غریبانه رہ چکی ہیں افسوس، صد افسوس!

دل سے یاد رکھو! امام حسین علیہ السلام کی قربانی، غدیر کو زندہ کرنے کے لیے تھی! ہماری رگوں میں دوڑنے والا خون، ہمارے دلوں کی دھڑکن، سب غدیر کی امانت ہے۔ تو پھر ہم عاشورا اور فاطمیہ سے ہزاروں گنا زیادہ محنت غدیر کے لیے کیوں نہیں کرتے؟ کاش! کاش! غدیر کو فراموش نہ کیا گیا ہوتا، تو نہ عاشورا کا یہ درد ہوتا، نہ فاطمیہ کی یہ غربت۔

پس، وقت آ گیا ہے دلوں کی گہرائی سے، روح کی پکار سے، اپنی پوری طاقت سے غدیر کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ غدیر کے لیے دن گننا شروع کریں، غدیر کے پرچم لہرا دیں، غدیر کے جشن منائیں، گلی کوچوں کو غدیر کے نعروں سے گونجائیں! “علیٌ ولیُ اللہ” کی صدا سے دنیا کو ہلا دیں!

اگر آج ہم نے کوتاہی کی، تو یہ امیرالمومنین علیہ السلام اور غدیر کے ساتھ بے وفائی ہوگی۔ یہ ان کے دلوں پر چوٹ پہنچانے کے مترادف ہوگا۔عید قربان سے لے کر مباہلہ تک، ہمارا ہر لمحہ غدیری ہونا چاہیے! خطبہ غدیر کو گھر گھر پہنچائیں، اس کے نور سے دلوں کو منور کریں۔

ہمیں یہ فراموش نہیں بلکہ ہمیشہ یادرکھنا ہیں ! اسلام اور تشیع کا ستون غدیر ہے، مگر ہم نے اس ستون کی مضبوطی کے لیے کتنا کم کام کیا! ہمارے تمام ایام سے غدیر کا دن سب سے زیادہ واجب، سب سے زیادہ اہم ہے۔
ان شاء اللہ، امام عصر عجل اللہ فرجہ کی دعائیں ہمارے شامل حال ہوں گی۔ عید غدیر وہ دن ہے جب اللہ نے اپنی سب سے بڑی نعمت کو مکمل کیا۔ تو ہم اس عظیم نعمت پر شکر کی بجائے بے پرواہی کیوں کریں؟ ہر سال سے ہزاروں گنا زیادہ کوشش کرو!

ایسا کام کرو کہ صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا زخمی دل سکون پائے۔ تمام معصومین علیہم السلام نے غدیر کی خاطر اپنی جان دی، تو ہم کیوں خاموش ہیں؟ ہم کیوں بے پرواہ ہیں؟

ایسا ماحول بنائیں کہ کوئی غدیر پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔ “من کنت مولاه فهـذا عليٌ مولاه” کو اتنی بلندی سے کہو کہ کائنات گونج اٹھے!

غدیر کا دن، امام عصر عجل اللہ فرجہ سے بیعت کا دن ہے۔ آئیے! دل و جان سے، سب مل کر غدیر کو زندہ کریں!
جس کی جتنی توان ہو اتنی ہی توان سے غدیر کو زندہ کریں؛ اپنے مال سے، اپنے وقت سے، اپنی مجالس و انجمنوں سے، اپنے ہر وسائل سے، جس عمل سے بھی ہو سکے، غدیر کو زندہ کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha